اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی۔ابنا۔ ٹرمپ کی طرف سے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے اصلی ملزم "محمد بن سلمان" کی ہمہ جہت حمایت امریکی سینیٹرز اور حکام کے غیظ و غضب کا باعث بنی ہے۔
لینڈسے گراہم:
کانگریس کی خارجہ امور کی کمیٹی کے رکن سینیٹر لنڈسے گراہم (Lindsey Graham) نے کہا: ڈیموکریٹ اور ریپلکن سینیٹرز سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کی بنا پر، سعودی عرب اور بنی سعود خاندان کے بعض افراد پر سخت پابندیاں لگانے کے منصوبے کی حمایت کرتے ہیں۔ اور سعودی عرب پر لگنے والی پابندیوں میں بنی سعود خاندان کے خاص خاص افراد کو بھی شامل ہونا چاہئے۔
انھوں نے کہا: اگر ہمارے حلیف قتل عام کا ارتکاب کریں گے اور کروڑوں انسانوں کو بھوکا رکھیں گے تو ہم دوسروں سے کیا توقع رکھ سکیں گے؟
برنی سینڈرز
کانگریس کے رکن برنی سینڈرز (Bernie Sanders) نے کہا: ٹرمپ نے اپنے غیر مربوط، مکارانہ اور درہم برہم بیانئے میں سعودی عرب کے استبدادی نظام کی حمایت کی بھرپور کوشش کی ہے۔
انھوں نے کہا: دنیا جانتی ہے کہ یمن کو بنی سعود کی سربراہی میں بنے اتحاد نے ویران کردیا لیکن ٹرمپ نے ایران کو یمن کی المناک جنگ کا ذمہ دار ٹہرایا۔
انھوں نے کہا: ٹرمپ کانگریس کی طرف سے اپنی غلط خارجہ پالیسی کی بنا پر اپنے خلاف تنبیہی کاروائی سے خوف زدہ ہیں۔
رینڈ پال:
ریپلکن سینیٹر رینڈ پال (Rand Paul) نے کہا: ہم کم از کم یہ تو کرسکتے ہیں کہ بنی سعود کو یمن پر حملہ کرنے کے لئے جدید ہتھیار دینے سے اجتناب کریں اور انہیں ان کے جرائم کے عوض انعام و اکرام سے نہ نوازیں۔
انھوں نے کہا کہ مجھے یقین ہے کہ ٹرمپ نے اپنے بیانئے میں سعودی عرب کو ترجیح دی ہے اور اس نے امریکہ کو اپنی ترجیحات کے پہلے درجے پر نہیں رکھا ہے۔
انھوں نے کہا: میں سعودی عرب کو ہتھیاروں کی فروخت پر پابندی لگانے اور یمن کی جنگ کے خاتمے کے لئے قانون کی منظوری کے لئے اپنا دباؤ جاری رکھوں گا۔
سینیٹر ڈیان فائنسٹائن
سینٹ کی عدلیہ کمیٹی کی رکن سینیٹر ڈیان فائنسٹائن (Dianne Feinstein) نے کہا: مجھے صدر ٹرمپ کی اس بات سے دھچکا لگا کہ سعودی ولیعہد کو سزا نہيں ملے گی۔ جبکہ حقائق بالکل واضح ہیں اور خاشقجی بنی سعود کی حکومت کے گماشتوں کے ہاتھوں سعودی قونصلیٹ میں مارے گئے ہیں۔
انھوں نے کہا: امریکہ کو سعودی ولیعہد محمد بن سلمان پر پابندیاں لگانے کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ کیونکہ ذرائع نے واضح کیا کہ امریکہ کی مرکزی انٹیلی جنس ایجنسی (CIA) کو یقین ہے کہ ولیعہد محمد بن سلمان نے جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا ہے۔
انھوں نے کہا: میرا فیصلہ یہ ہے کہ سعودی عرب کو ہر قسم کا اسلحہ بیچنے کا عمل روکنے کے لئے ووٹ دوں۔
واضح رہے کہ سی آئی اے نے کچھ دن پہلے اعلان کیا کہ اسے کئی ذرائع سے ملنے والی معلومات کی بنا پر، یقین ہے کہ سعودی ولیعہد محمد بن سلمان نے سعودی صحافی کے قتل کا حکم دیا ہے جس کے بعد ٹرمپ نے منگل کے دن اپنے موقف کے اعلان کا وعدہ کیا تھا۔ اور ٹرمپ نے کل بروز منگل [20/11/2018ع] خاشقجی کے قتل کے سلسلے میں ایک بیانیہ جاری کرکے کہا کہ جمال خاشقجی کے قتل کے سلسلے میں موصولہ معلومات کا جائزہ لینے کا سلسلہ جاری ہے اور ممکن ہے کہ بن سلمان اس قتل سے مطلع ہوں۔۔۔ اس کے باوجود شاید کانگریس کا موقف مختلف ہو۔ اور جب تک کہ امریکہ کی قومی سلامتی ترجیحی مسئلہ ہوگا میں تمام آراء کا خیر مقدم کرتا ہوں۔
انھوں نے خاشقجی کے قتل کو ہولناک جرم قرار دیا اور دعوی کیا کہ امریکہ نے اس جرم کے خلاف سخت گیرانہ اقدامات کئے ہیں۔
انھوں نے کہا کہ خاشقجی قتل کیس کا مطالعہ کرتے ہوئے ہمیں بہت سی تفصیلات معلوم ہوئیں۔
انھوں نےکہا: سعودی حکمران خاشقجی کو اپنی حکومت کا دشمن اور اخوان المسلمین کا حامی سمجھتے تھے لیکن یہ موضوع، اس ناقابل قبول قتل کے سلسلے میں ہمارے فیصلوں پر اثر انداز نہیں ہوسکا ہے۔
ٹرمپ نے مزید کہا: محمد بن سلمان اس قتل کے سلسلے میں اپنی طرف کی کسی منصوبہ بندی یا اس قتل سے پیشگی اطلاع کے سلسلے میں ہونے والے دعؤوں کو یکسرد مسترد کررہے ہیں۔ لیکن ممکن ہے کہ ولیعہد کو اس غم انگیز واقعے کا پیشگی علم رہا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ بالکل لاعلم ہوں!
انھوں نے کہا: سعودی عرب ایران کے خلاف امریکہ کا اہم حلیف ہے! ہمارے اور سعودی عرب کے درمیان تجارتی تعلقات اور سرمایہ کاری کے معاہدے ہیں اور ان معاہدوں نے سارے پرانے ریکارڈ توڑ دیئے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مذکورہ بیانئے کے بعد، ٹرمپ نے کہا: سی آئی کی رپورٹ اس بات کو ثابت نہیں کرتی کہ محمد بن سلمان خاشقجی کے قتل میں 100 فیصد ملوث ہیں۔
یاد رہے کہ روزنامہ واشنگٹن پوسٹ نے قبل از ایں اپنی رپورٹ میں کہا تھا کہ "سی آئی اے کو اپنے ذریعے سے یقینی طور پر معلوم ہوچکا ہے کہ محمد بن سلمان نے سعودی صحافی جمال خاشقجی کے قتل کا حکم دیا ہے۔
ٹرمپ نے خاشقجی کے قتل کے باعث سعودی عرب کے ساتھ ـ خاص طور پر فوجی ـ معاہدوں کی منسوخی کے بارے میں کہا: میں 2017 میں سعودی عرب کے دورے پر ریاض گیا تو ہم نے سعودی حکام کے ساتھ بہت صبر آزما مذاکرات کئے اور سعودیوں نے امریکہ میں 450 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری سے اتفاق کیا جس کی وجہ سے امریکہ میں لاکھوں افراد کو روزگار کے مواقع میسر آئے اور امریکہ کی معیشت نے حیران کن ترقی کرلی۔۔۔ اگر ہم احمقانہ طور پر ان معاہدوں کو منسوخ کریں، تو روس اور چین اس صورت حال سے وسیع پیمانے پر فائدہ اٹھائیں گے اور انہیں اس نئی تجارت تک رسائی کی بنا پر بہت خوشی ہوگی۔ اور یہ امریکہ کی طرف سے ان کے لئے بلاواسطہ تحفہ ہوگا۔
ٹرمپ نے ـ اس کے باوجود کہ سعودی عرب نے گذشتہ چار برسوں سے یمن پر یلغار کی ہوئی ہے، لاکھوں افراد کو قتل اور زخمی اور کروڑوں کو قحط، بیماریوں اور بھوک سے دوچار کیا ہے، یمن کو زمینی اور فضائی طور گھیر لیا ہے ـ الزام لگایا کہ ایران نے یمن میں سعودی عرب کے خلاف نیابتی جنگ (Proxy war) کا آغاز کیا ہے۔
دوسری طرف سے ٹرمپ نے ایسے حال میں بن سلمان کی حمایت کی ہے کہ سی آئی نے ان پر خاشقجی کے قتل کا فرمان جاری کرنے کا الزام لگایا ہے اور کہا ہے کہ اسے یقین ہے کہ بن سلمان نے اس قتل کا حکم دیا ہے۔ لہذا اس سے امریکی ایجنسیوں کی ساکھ کو بھی شدید نقصان اٹھانا پڑا ہے اور یوں اس مسئلے کو مزید تقویت ملی ہے کہ امریکہ اپنے زوال کے مراحل سے گذرتے ہوئے اخلاقی زوال کے مرحلے میں داخل ہوا ہے اور انٹیلجنس اداروں کو غیر معتبر کرکے انہیں ملکی مسائل سے لاتعلقی کی طرف دھکیلا جارہا ہے۔
خاشقجی سعودی دربار کے قریبی صحافیوں میں سے تھے، سعودی اخبار الوطن کے چیف ایڈیٹر رہے تھے، اور امریکی اخبار "واشنگٹن پوسٹ" کے کالم نگار تھے۔ وہ کچھ عرصہ سعودی انٹیلجنس کے مشیر بھی رہے تھے لیکن جب بن سلمان نے سعودی شہزادوں، تاجروں اور سماجی کارکنوں کی گرفتاریوں کا سلسلہ شروع کیا تو وہ امریکہ چلے گئے۔ انھوں نے ایک ترک خاتون سے شادی کا منصوبہ بنایا تو سعودیوں نے ان سے کہا کہ استنبول جاکر وہاں کے سعودی قونصلیٹ سے اپنی شادی کے کاغذات وصول کریں "کیونکہ ان کی منگیتر کا تعلق ترکی سے تھا"۔ وہاں گئے تو قونصلیٹ سے باہر نہیں آسکے اور ان کے بدن کے ٹکڑے کئے گئے اور ۔۔۔۔
سعودی حکومت نے اٹھارہ دن بعد اعتراف کیا کہ خاشقجی کو قونصلیٹ میں ہلاک کیا گیا ہے لیکن قاتلوں نے خودسرانہ طور پر یہ اقدام کیا ہے اور اس اقدام کا سعودی دربار سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ خاشقجی کی لاش ابھی تک نہیں مل سکی ہے۔
اس کے بعد امریکہ نے سعودی موقف کے مطابق، قتل میں ملوث 17 افراد پر پابندی لگائی جن میں بن سلمان کے مشیر سعود القطحانی اور استنبول میں سعودی قونصل جنرل محمد العتیبی اور العتیبی کے نائب ماہر المطرب شامل ہیں۔ ان افراد پر جرمنی نے بھی پابندیاں لگائی ہیں اور فرانس اور برطانیہ نے بھی کہا ہے کہ وہ خاشقجی کے قتل کے بموجب سعودیوں پر کچھ پابندیوں کا ارادہ رکھتے ہیں۔ کینیڈا نے بھی سعودی عرب پر پابندیاں لگانے کا اعلان کیا ہے؛ لیکن امریکہ نے اپنی اخلاقی گراوٹ کا ثبوت دیتے ہوئے بن سلمان کے ملوث ہونے کو یقینی قرار دینے کے باوجود [اب تک] بنی سعود پر کسی قسم کی پابندی کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
https://www.jamaran.ir/fa/tiny/news-1058914
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۱۱۰